نئی دہلی،20/دسمبر(ایس او نیوز/یواین آئی) دہلی ہائی کورٹ نے نربھیا آبروریزی اور قتل کیس کے ایک مجرم کو ایک ماہ کے اندر نئی دستاویزات پیش کر کے یہ ثابت کرنے کو کہا ہے کہ وہ واقعہ کے وقت نابالغ تھا۔سال2012کے اس خوفناک اور دلدوز واقعہ کے جرم کے قصورواروں میں سے ایک پون کمار نے چہارشنبہ کو اپنے وکیل کے ذریعہ درخواست دائر کرکے عدالت سے اس واقعہ کے وقت خود کے نابالغ ہونے دی، درخواست کی اور اپنے خلاف معاملہ کو نابالغ انصاف قانون کے تحت مقدمہ چلائے جانے کا مطالبہ کیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ جانچ حکام نے عمر کا تعین کرنے کے لئے پون کی ہڈیوں کی جانچ پڑتال نہیں کی تھی۔ وکیل نے پون کے معاملہ کو نابالغ انصاف قانون کی دفعہ سات ایک کے تحت چلائے جانے کی عدالت سے اپیل کی۔ وکیل نے عدالت سے گزارش کی کہ نابالغ ہونے کے دعویٰ کی جانچ پڑتال کرنے کے لئے پون کی ہڈی کی جانچ کی حکام کو ہدایت دی جائے۔سپریم کورٹ نے اس کیس کے ایک اور مجرم اکشے سنگھ کی نظر ثانی درخواست چہارشنبہ کو مسترد کرتے ہوئے اس کی پھانسی کی سزا برقرار رکھی۔ اس معاملہ میں پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے پون گپتا، مکیش، ونے شرما اور اکشے کمار کو پھانسی کی سزا سنائی تھی۔
جسے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے برقرار رکھا تھا۔16دسمبر2012 کو دارالحکومت میں نربھیا کی اجتماعی عصمت دری کئے جانے کے بعد اس کو سنگین حالت میں پھینک دیا گیا تھا۔ دہلی میں علاج کے بعد اسے ایئر لفٹ کرکے سنگاپور کے ملکہ الزبتھ اسپتال لے جایا گیا تھا جہاں اس کی موت ہو گئی تھی۔ اس معاملہ کے6 ملزمان میں سے ایک نابالغ تھا، جسے اصلاحی گھر بھیجا گیا تھا۔ اس نے وہاں سے سزا پوری کر لی تھی۔ ایک ملزم نے تہاڑ جیل میں خود کشی کرلی تھی۔